دو آدم خور
یہ 1990 کی بات ہے جب میں بیس سال کا ایک نوجوان لڑک تھا ۔۔۔ صیح غلط کی زیادہ سمجھ نہیں تھی ۔۔۔ والد کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا اسی وجہ سے میں کافی خود مختیار اور آوارہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
ایک رات میں فضول شہر کی سڑکوں پر ٹہل رہا تھا ۔۔۔ اور آس پاس آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس وقت رات کے دو بج رہے تھے اس لئے سڑک پر ٹریفک اور لوگ نہ ہونے کے برابر تھے ۔۔۔ میں جب چلتے چلتے تھک گیا تو فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ اور سگریٹ پینے لگا ۔۔۔
ابھی مجھے بیٹھے ہوئے آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت کھلے بالوں والی لڑکی آ کر بالکل میرے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔۔ میں حیران تھا کہ یہ لڑکی کون ہے اور میرے پاس آ کر کیوں بیٹھ گئی .... اس لڑکی کے ہاتھ میں دو جوس کے گلاسز تھے ۔۔۔ جن میں شاید سرخ انار کا جوس تھا ۔۔اور دو برگر تھے۔ ابھی میں اس لڑکی سے پوچھنے ہی والا تھا کہ کون ہو تم کہ اس لڑکی نے خود ہی مجھ سے پوچھ لیا ۔۔۔۔۔۔
' آپ اتنی رات کو یہاں اکیلے کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ '
میں اس لڑکی کے سوال پر حیران ہوا ۔۔۔ کیونکہ یہ سوال مجھے اس لڑکی سے پوچھنی چاہئے تھی کہ وہ ایک لڑکی ہو کر اتنی رات کو وہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔ اور وہ یہ سوال مجھ سے کر رہی تھی ۔۔۔ خیر میں نے اسے بتایا ۔۔۔۔
میں ایسے ہی رات کو اپنا ٹائم پاس کرنے یہاں سڑکوں پر آ جاتا ہوں ' میری بات سن کر وہ مسکرانے لگی پھر اس نے ایک برگر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔
یہ لیں برگر کھائیں '
میں نے مروت سے انکار کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
جی نہیں شکریہ آپ خود کھائیں اپنا برگر '
مگر وہ لڑکی خوش اخلاقی سے بولی ۔۔۔۔
میرے پاس دو برگر ہیں ایک پر ایک فری میں مل رہا تھا تو میں نے لے لیا آپ بھی کھائیں '
میں نے مزید انکار نہ کرتے ہوئے اس لڑکی کے ہاتھ سے برگر لے لیا اور کھانے لگا ۔۔ برگر کھاتے ہوئے مجھے انوکھی اور منفرد خوشبو اور ذائقے کا احساس ہوا ۔۔۔ شاید وہ عجیب و غریب ذائقہ گوشت کا تھا ۔۔۔ لیکن جو بھی ذائقہ تھا بہت ہی زبردست تھا ۔۔۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آیا اس برگر میں گوشت کس چیز کا استعمال ہوا ہے لیکن مجھے وہ برگر کافی خوش ذائقہ محسوس ہوا ۔۔۔۔ اور میں بڑی رغبت سے وہ برگر کھانے لگا ۔۔۔ وہ لڑکی برگر کھانے کے دوران مجھے دیکھتی رہی پھر میں نے جیسے ہی اپنا برگر ختم کیا اس لڑکی نے جوس کا ایک گلاس بھی میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔
یہ لیں انار کا جوس پی لیں '
برگر کھانے کے بعد چونکہ مجھے پیاس بھی محسوس ہو رہی تھی تو میں جلدی جلدی جوس کا گلاس اس لڑکی کے ہاتھ سے لے کر پینے لگا ۔۔۔ اور تین سیکنڈ میں پوری گلاس پی گیا ۔۔۔ مگر وہ جوس پینے کے بعد مجھے اس کا ذائقہ بہت ہی عجیب اور نمکین لگا ۔۔۔۔ بہت ہی برے ذائقے والا جوس تھا ۔۔۔ ممکن تھا وہ لڑکی کوئی چور ڈاکو ہو اور اس نے مجھے کوئی نشہ آور چیز پلا دی ہو ۔۔۔ مجھے اس وقت اپنی حماقت پر جی بھر کر افسوس ہو رہا تھا کہ میں نے کیوں کسی اجنبی لڑکی کے ہاتھ سے برگر اور جوس پیا ۔۔۔ پھر میں نے گھور کر اس لڑکی کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی ۔۔۔
میں نے غصے سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
یہ کیا پلایا تم نے مجھے ۔۔۔ '
میری بات سن کر وہ لڑکی کھڑی ہوئی اور زور زور سے ہنسنے لگی ۔۔۔ میں اس کے بے مقصد ہنسنے پر حیران تھا لیکن مجھے سمجھنا چاہیے تھا وہ بے مقصد نہیں ہنس رہی ہوگی ۔۔۔
پھر اس لڑکی نے ہنستے ہنستے کہا ۔۔
یہ جوس نہیں خون تھا ' میں اس کی بات سن کر صدمے سے کھڑا ہوا ۔۔ اس لڑکی کی آنکھیں عجیب تھییں ۔۔
پھر اس نے دوسرا بھیانک انکشاف کیا تھا مجھ پر ۔۔۔
اور یہ جو تم نے برگر کھایا ہے اس میں جانتے ہو کس چیز کا گوشت تھا یہ انسانوں کے گوشت والا برگر تھا ۔۔۔۔ اور اب تم نے ایک بار انسان کا گوشت کھا لیا تو تم اس گوشت کا ذائقہ کبھی بھول نہیں پاو گے ۔۔۔۔ تمہیں انسانی گوشت کھانے کی عادت ہو جائے گی ۔۔۔ '
یہ بول کر وہ ایک بار پھر ہنسنے لگی اور میں آنکھیں کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
میں نے کانپتے ہونٹوں سے اس سے پوچھا ۔۔۔۔
' تم نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔ تمہیں کیا ملا مجھے یہ عادت ڈال کر '
پھر اس لڑکی نے ہنسنا چھوڑ کر سنجیدگی سے میری طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
میں اکیلی تھی اور ایک لڑکی تھی ۔۔ میں پچھلے دو سالوں سے خود انسانی گوشت اکھٹا کر کے کھا رہی تھی لیکن میرے لئے اکیلے یہ کام کرنا مشکل تھا اور مجھے ایک ساتھی کی ضرورت تھی ۔۔۔۔اس لئے میں نے تمہیں انسانی گوشت کی عادت ڈال دی ۔۔۔ '
اس لڑکی نے یہ کہتے ہوئے مجھے اپنا نمبر لکھ کر دیا اور کہا ۔۔
تمہیں جب بھی میری ضرورت ہو مجھ سے رابطہ کرنا '
وہ لڑکی پرچی مجھے دے کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
اور میں وہیں بے جان ہو کر کھڑا رہا ۔۔۔ اور رات کو اپنے گھر واپس آ گیا ۔۔۔ اس لڑکی نے ٹھیک کہا تھا انسانی گوشت کا ذائقہ کبھی منہ سے نہیں ختم ہوتا اور وہی میرے ساتھ ہو رہا تھا گھر آ کر بھی میرے منہ میں اسی گوشت کا ذائقہ تھا اور میرا دل کر رہا تھا کہ ابھی مجھ بہت سا انسانی گوشت مل جائے اور میں کھا جاوں ۔۔۔ میں خود کو روکنے کی بہت کوشش کر رہا تھا کہ کسی طرح سے یہ جنون میرے سر سے اتر جائے لیکن خود کو روک پانا میرے لئے نا ممکن ہو رہا تھا ۔۔۔۔
میں نے وہ رات جاگ کر گزاری سوچا شاید صبح یہ جنون ختم ہو جائے لیکن اگلی صبح بھی میرا وہی حال تھا میں انسانی گوشت کے لئے تڑپ رہا تھا اور میرا جنون بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے خود پر کنٹرول کرنے کی بہت کوشش کی لیکن یہ مشکل تھا اور پھر میں نے تنگ آ کر اس لڑکی کا نمبر نکالا اور اسے کال کرنے لگا ۔۔۔ دوسری ہی بیل پر اس لڑکی نے کال اٹھا کر کہا ۔۔۔۔
مجھے پتا تھا تم کال ضرور کرو گے تم اسی جگہ پہ آ جاو جہاں ہم پہلے ملے تھے '
میں تیزی سے گھر سے باہر نکلا ۔۔۔ اور بھاگتے ہوئے اسی سڑک پر گیا جہاں ہم پہلی بار ملے تھے وہ لڑکی وہیں کھڑی تھی ۔۔۔ اس نے مجھے وہاں آتے دیکھ کر کہا ۔۔۔
چلو میرے پیچھے '
میں اس لڑکی کے پیچھے پیچھے جانے لگا مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا مجھے بس گوشت چاہیے تھا ۔۔۔ وہ لڑکی مجھے ایک پارک میں لے آئی ۔۔۔۔ ہم دونوں پارک میں ادھر ادھر گھومتے رہے پھر اس لڑکی کو دور ایک عورت بیٹھی نظر آئی ۔۔۔
اس لڑکی نے مجھ سے کہا جاو جا کر اس لڑکی کو پکڑو اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن پر دانت رکھ دو اور زور زور سے اس عورت کی شہہ رگ کاٹ دو '
مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا لیکن نشہ ہی ایسا تھا کہ میں بھاگتے ہوئے پارک میں بیٹھی اس عورت کے پاس پہنچا اور میں نے تیزی سے اس عورت کے ہاتھ پکڑے اور اس کی گردن پر دانت رکھ کر اس کی شہہ رگ کاٹ دی اور اس عورت کو تب تک نہیں چھوڑا جب تک وہ مر نہیں گئی ۔۔۔
وہ عورت جب مر گئئ تو میں اس کا خون پینے لگا اور اس کا گوشت دانتوں سے کاٹ کاٹ کر کھانے لگا وہ لڑکی بھی میرے پاس آ گئی اور میرے ساتھ مل کر اس عورت کا گوشت کھانے لگی ۔۔۔ مجھے ایسا جنون تھا کہ میں نے اس عورت کا ہاتھ اپنے منہ میں لگایا اور پانچ منٹ میں اس کا پورا ہاتھ ہضم کر گیا ۔۔۔ پھر میں اس عورت کے پاوں کھانے لگا ۔۔۔
شکریہ۔
اللہ حافظ

Comments
Post a Comment