دھوکہ
کچھ واقعات اس قدر عجیب ہوتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے یہ کیا ہو گیا اور کیسے ہو گیا ۔۔۔۔ ایسے اتفاق بہت کم لوگ کے ساتھ ہوتے ہیں مگر جن کے ساتھ ہوتے ہیں ان کی زندگیاں بدل دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
یہ اس چھوٹے سے گھر کی کہانی تھی جہاں ہارون اپنی خوبصورت بیوی سمرانہ کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے شادی کر کے اس چھوٹے سے گھر میں اپنی زندگی گزار رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ ہارون ایک بہت اچھا شوہر اور سمرانہ سے بے پناہ محبت کرتا تھا ۔۔۔۔۔
اور سمرانہ بھی بہت اچھی اور فرماں بردار بیوی تھی ۔۔۔ ایسا کم از کم ہارون کو لگتا تھا ۔۔۔۔۔ کیونکہ ہارون کے سامنے واقعی سمرانہ ایک شریف اور فرماں بردار بیوی بن کر رہتی تھی ۔۔۔۔۔۔ لیکن حقیقت میں کچھ اور تھی ۔۔۔۔
اور ہارون اسی غلط فہمی میں جی رہا تھا کہ سمرانہ بھی اس سے محبت کرتی ہے ۔۔۔ ۔
یہ صبح کا وقت تھا ۔۔۔ ہارون آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا ۔۔۔۔ سمرانہ سمرانہ کچن میں کھانا بنا رہی تھی ۔۔۔
۔ سمرانہ نے سر پر پورا دوپٹہ لیا ہوا تھا وہ ایک شریف اور فرماں بردار بیوی کے روپ میں نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔ ہارون کچن میں چلا گیا جہاں سمرانہ کھانا بنا رہی تھی ۔۔۔ ہارون نے مسکراتے ہوئے سمرانہ کو دیکھا جو بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔ ہارون مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
سمرانہ تم بہت خوبصورت ہو اور میری خوش قسمتی ہے کہ تم میری بیوی ہو ۔۔۔ '
سمرانہ اپنی تعریف پر مسکرانے لگی ۔۔۔۔۔
ہارون سمرانہ کی مسکراہٹ پر فدا ہونے لگا ۔۔۔۔ اور سمرانہ ناشتہ بنانے میں مصروف تھی ہارون پاس کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
سمرانہ نے ایک ٹرے میں انڈا چائے اور پراٹھا اور رکھا اور ہارون کو دیا ۔۔۔۔۔ ہارون نے بڑی محبت سے سمرانہ کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
تم میرا کتنا خیال رکھتی ہو ۔۔۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں میں کتنا خوش قسمت ہوں جو مجھے تم جیسی بیوی ملی ہے ، ملتی کہاں ہیں آج کل ایسی فرما بردار اور شوہر کا خیال رکھنے والی بیویاں ۔۔۔۔۔ '
سمرانہ اپنی تعریف پر مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اب بس بھی کریں ۔۔۔ آپ صبح سے میری تعریفوں میں لگے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ '
ہارون سمرانہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولا ۔۔۔۔
سمرانہ تم ہو ہی اتنی خو بصورت اور اتنی اچھی کہ تمہیں دیکھ کر تعریف خود بخود نکل ہی آتی ہے ۔۔۔۔ '
سمرانہ برتن دھونے لگی اور ہارون وہیں کچن میں بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا ۔۔۔۔۔ اور ناشتے کے دوران وہ سمرانہ کو بھی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ ہمیشہ سمرانہ کو دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور اسے اپنی قسمت پر رشک آنے لگتا ۔۔۔ ناشتے کے بعد ہارون سمرانہ کو اللہ حافظ کہہ کر آفس کے لئے نکل گیا۔۔۔۔۔ ہارون کے جانے کے بعد اب سمرانہ گھر میں اکیلی تھی ۔۔۔۔
ہارون کے باہر جاتے ہی سمرانہ نے دروازہ اندر سے بند کر دیتی ہے ۔۔۔۔ پھر سمرانہ کے چہرے پر غصہ آتا ہے ۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے سمرانہ نفرت کرتی تھی ہارون سے ۔۔۔ اسے ہارون بالکل پسند نہیں تھا لیکن ہارون کے سامنے اسے شریف اور اچھی بیوی بننے کا ڈرامہ کرنا پڑتا تھا ۔۔۔۔ سمرانہ ہارون سے نفرت اس لئے کرتی تھی کیونکہ وہ ایک کال گرل تھی ۔۔۔
یعنی کہ اپنا جسم بیچنے والی ایک لڑکی ۔۔ جسے گھریلو بیوی بن کر رہنا بالکل نہیں پسند تھا ۔۔۔۔ لیکن سمرانہ مجبوری میں ہارون کے ساتھ رہ رہی تھی کیونکہ ہارون کی وجہ سے اسے رہنے کو چھت مل رہی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن ہارون کے جانے کے بعد وہ ایک کال گرل بن کر اپنا جسم فروشی شروع کرتی تھی ۔۔۔ اور سارا دن اپنا جسم بیچتی تھی ۔۔۔۔۔۔ ہارون سمرانہ کو ایک اچھی اور شریف بیوی ہی سمجھتا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا سمرانہ اس کے پیٹھ پیچھے جسم فروشی کا دھندا کرتی ہے ۔۔۔۔۔
سمرانہ نے دوپٹہ سر سے اتار کر پھینک دیا جو اس نے ہارون کے سامنے سر پر لے رکھا تھا ۔۔۔۔پھر اس نے کپڑے تبدیل کئے اور اب وہ ایک سادہ دیہاتی بیوی کی بجائے ایک سٹائلش لڑکی بن چکی تھی ۔۔۔۔ کھلے بالوں ، اور میک اپ کے ساتھ ایک ماڈرن اور بولڈ لڑکی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اس نے جلدی جلدی اپنی پرس سے موبائل نکال کر ایک نمبر ملایا ۔۔۔۔۔
دوسری طرف سے کال اس کے بوائے فرینڈ کبیر نے اٹینڈ کی ۔۔۔۔ کبیر اس سمرانہ کا پرانا بوائے فرینڈ تھا جس سے وہ اکثر ملتی رہتی تھی اور اس سے پیسے لوٹتی رہتی ۔۔۔۔۔
سمرانہ نےکال پہ کبیر سے پوچھا ۔
کہاں ہو تم ۔۔۔ '
کبیر نے دوسری طرف سے جواب دیا ۔۔۔۔۔
یار میں ادھر اپنے فلیٹ میں ہوں تم کہاں ہو سمرانہ ۔۔۔۔ '
سمرانہ کچھ سرگوشی کے انداز میں بولی ۔۔۔
میں اپنے گھر میں ہوں ۔۔۔ میرا شوہر ہارون آفس چلا گیا ہے ۔۔۔ جلدی سے میرے گھر آ کر مجھے لے جاو ۔۔۔۔۔ '
کبیر دوسری طرف کال پہ کہتا ہے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے تم جلدی سے تیار ہو جاو میں آ رہا ہوں تمہیں لینے کے لئے ۔۔۔۔ '
سمرانہ نے کال کٹ کر دی ۔۔۔
اور تیار ہونے لگی ۔۔۔۔ اس نے تیزی سے الماری میں سے ایک نقاب نما چادر نکالی اور اس چادر کو سر پر اوڑھ لیا تا کہ کوئی اسے پہچان نہ لے ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد کبیر آیا ہے اور سمرانہ کبیر کے ساتھ بائیک پہ بیٹھ کر اس کی فلیٹ میں چلی گئی ۔۔۔۔
کبیر کے فلیٹ میں داخل ہو کر سمرانہ بیڈ روم میں چلی گئی۔۔۔ جہاں وہ اپنا چادر اتار کر بیٹھ گئی ۔۔۔ اور کبیر بھی بیڈ روم میں چلا آیا ۔۔۔ سمرانہ نے کبیر سے کہا ۔۔۔۔
دروازہ بند کر دو کبیر ۔۔۔ کیا پتا کوئی آ جائے '
کبیر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔
یہاں کوئی نہیں آئے گا میری جان یہاں صرف تم اور میں ہوں گے ۔۔۔۔۔ '
سمرانہ مسکرانے لگی ۔ کبیر سمرانہ کے پاس بیٹھ گیا اور سمرانہ کے گالوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
آج تم نے آنے میں بہت دیر کر دی میری جان میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
سمرانہ نےغصے اور اکتاہٹ سے جواب دیا ۔۔۔۔
ہارون کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی وہیں دیر ہو گئی تھوڑی ۔۔۔۔ '
کبیر نے غصے سے کہا ۔۔۔
ایک تو تمہارا یہ شوہر ہماری محبت کا دشمن ہے ۔۔۔ اس کا کچھ کرو ۔۔۔۔ '
سمرانہ کبیر کی بات کاٹ کر بولی ۔۔
چھوڑو ان باتوں کو ۔۔۔ جلدی کرو ۔۔۔ بعد میں ہارون آ جائے گا پھر میں گھر چلی جاوں گی ۔۔۔ '
کبیر اپنے کپڑے اتارنے لگتا ہے اور سمرانہ بھی ۔۔۔ پھر کبیر لائٹ آف کر دیتا ہے اور وہ دونوں گناہ کی دنیا میں ڈوب جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ مسلسل ایک گھنٹے تک مدہوش رہے ۔۔ اور ایک دوسرے کے وجود میں گم ہو گئے ۔۔۔ سمرانہ کافی تھک چکی تھی اور وہ کبیر سے بولی ۔۔۔۔
چھوڑو اب مجھے ۔۔۔ بہت وقت ہو گیا ۔۔۔ آج تو تم نے حد ہی کر دی کبیر '
کبیر مسکراتے ہوئے کھڑا گیا ۔۔۔ اور سگریٹ کا ایک کش لگاتے ہوئے بولا کوئی بات نہیں یار کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے ۔۔۔ آج کافی انجوائے کیا '
سمرانہ کبیر کی بات ٹالتے ہوئے بولی ۔۔۔
اچھا میری فیس کہاں ہے ۔۔۔ جلدی میرے پاس دو پھر میں گھر چلتی ہوں ۔۔۔۔ '
کبیر نے اپنا پورا بٹوہ سمرانہ کی طرف اچھالا اور سمرانہ نے
پیسوں سے بھرا ہوا پورا بٹوہ اپنی پرس میں ڈال دیا ۔۔۔۔
کبیر نے سمرانہ سے کہا ۔۔۔
یار کچھ پیسے تو واپس کر دو میں نے کرایہ دینا ہے '
سمرانہ خفگی سے بولی ۔۔۔
بالکل بھی نہیں پہلے ہی سستے میں کافی عیاشی کر چکے ہو '
کبیر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔
تمہارا مستقل گاہک ہوں سمرانہ اتنی تو رعایت کیا کرو ۔۔۔ '
سمرانہ غصے سے کبیر کی بات کاٹ کر بولی ۔۔۔۔
چھوڑو ان باتوں کو اب جلدی کپڑے پہنو اور مجھے گھر ڈراپ کر دو میرا وہ منحوس شوہر ہارون آ گیا تو مصیبت کھڑی ہو جائے گی ۔۔۔ '
کبیر کھڑا ہو گیا سمرانہ نے اپنا حلیہ درست کیا اور اپنی چادر نقاب کے روپ میں اوڑھ لی اسی وقت سمرانہ کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی ۔۔۔۔ سکرین پر ہارون کا نمبر دیکھ کر سمرانہ غصہ ہو گئی لیکن کال اٹینڈ کی ۔۔۔
ہارون نے کال پہ مسکراتے ہوئے سمرانہ سے پوچھا ۔۔
کیا ہو رہا ہے پیاری بیگم صاحبہ
سمرانہ فرماں بردار اور شریف بیوی کے انداز میں بولی ۔۔۔۔
جی میں گھر میں کباب بنا رہی ہوں آپ کے لئے۔۔۔۔ '
اسی دوران کبیر نے سمرانہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چھیڑ خانی کرنے لگا ۔۔۔ سمرانہ نے کبیر کو اشاروں سے منع کیا ۔۔۔۔۔
ہارون سمرانہ کی بات سن کر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
سمرانہ میں قربان آپ کی اس محبت کے ۔۔۔۔۔۔آپ بہت اچھی بیوی ہیں میری '
سمرانہ کال پہ بات کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی کبیر بھی سمرانہ کے پیچھے پیچھے چلا گیا ۔۔۔
___________________
یہ رات کا وقت تھا ۔۔۔۔ ہارون اکیلا روڈ پر ٹہل رہا تھا ۔۔۔ آفس سے چھٹی کے بعد اکثر وہ واک کرنے کے لئے روڈ پر آتا تھا ۔۔۔۔ چلتے چلتے اچانک ہارون نے سامنے کبیر کو دیکھا ۔۔۔ کبیر اور ہارون پرانے دوست تھے اور ایک دوسرے سے مسکراتے ہوئے ملے ۔۔۔۔ ہارون نہیں جانتا تھا کبیر اس کی بیوی سمرانہ کا بوائے فرینڈ ہے اور اکثر کبیر کے ساتھ مل کر جسم فروشی کرتی ہے اور نہ ہی کبیر یہ جانتا تھا ہارون سمرانہ کا شوہر ہے ۔۔۔ بالکل ایسے ہی یہ بات سمرانہ بھی نہیں جانتی تھی کبیر اس کے شوہر ہارون کا پرانا دوست ہے ۔۔۔ انجانے میں ان سب کی زندگی کافی الجھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہارون کبیر کو اتنے سال بعد دیکھ کر کافی خوش ہوا اور مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
تم کیسے ہو کبیر اتنے سال بعد نظر آئے ہو کہاں تھے اب تک ۔۔۔۔ '
کبیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔
بس یار زندگی میں کچھ مصروف ہوں ۔۔۔ ایک کمپنی میں جاب کرتا ہوں وہیں ہوتا ہوں تم سناو کیسے ہو اور بھابھی کیسی ہے ۔۔۔۔ '
ہارون مسکراتے ہوئے جواب دیتا ہے ۔۔۔۔
میں تو بالکل ٹھیک ہوں اور تمہاری بھابھی بھی بالکل ٹھیک ہے ۔۔۔ '
وہ دونوں سڑک پر چلتے ہوئے جا رہے تھے اور باتیں بھی کر رہے تھے ۔۔۔۔ کبیر ہارون کی بات پر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
اچھا بھابھی پیار تو کرتی ہے ناں تمہارا خیال تو رکھتی ہے ۔۔۔۔ '
ہارون کبیر کی بات سن کر مسکرا دیتا ہے اور مسکراتے ہوئے کہتا ہے ۔۔۔۔
بہت پیار کرتی ہے یار ۔۔۔۔ اور میرا بھی خیال رکھتی ہے بہت اچھی بیوی ہے ۔۔۔ تم کبھی آنا میرے گھر تمہیں ملواوں گا اپنی بیوی سے ۔۔۔۔۔ '
کبیر سر اثبات میں ہلاتا ہے ۔۔۔۔ وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے جا رہے تھے ۔۔۔ پھر کبیر ہارون سے پوچھتا ہوں ۔۔۔۔
یار ہارون تم ہمیشہ ایک بیوی سے بور نہیں ہو جاتے ۔۔۔۔ مطلب زندگی میں کچھ نئی نئی لڑکیاں بھی ہونی چاہیے ۔۔۔ جو انسان کو سکون دیں ۔۔۔ اور انسان کچھ راتیں ان کے ساتھ گزارے ۔۔۔۔ بار بار ایک ہی عورت سے بندہ بور ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔ کبھی کبھی بازار کا مال بھی چکھ کر دیکھ لینا چاہئے '
کبیر کی بات سن کر ہارون ٹھنڈی سانس بھرتا ہے ۔۔۔ اور کہتا ہے ۔۔۔۔
' یار تم ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن میں شادی شدہ ہوں اب مجھے کہاں ملیں گی ایسی لڑکیاں جو میرے ساتھ رات گزاریں ۔۔۔۔۔۔
کبیر رک کر ہارون کے کاندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا مسکرایا ۔۔۔ اور شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔۔۔۔
لڑکیاں بہت یار ہیں ۔۔ بس پیسہ لگتا ہے ۔۔۔۔ '
ہارون نے کہا۔۔۔۔
تو پیسے کی فکر نہ کر ۔۔۔۔پیسہ بہت ہے میرا ساتھ کوئی لڑکی ہے تو بتا دے ۔۔۔ '
کبیر نے کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا ۔۔۔۔۔
ایک لڑکی ہے تو سہی یار اس کا شوہر کہیں جاب کرتا ہے اور وہ گھر پہ اکیلی ہوتی ہے بہت خوبصورت لڑکی ہے تو کہے تو بات کروں اس سے ۔۔۔۔ '
ہارون تو پہلے سے ہی تیار تھا اس لئے اس نے فورا ہاں کہا اور کبیر سمرانہ کا نمبر ملانے لگا ۔۔۔ ہارون یہ نہیں جانتا تھا وہ لڑکی اسی کی بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔
کبیر نے سمرانہ کو کال کی اور اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔
کیسی ہو تم ۔۔۔
سمرانہ نے جواب دیا ۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں رات کو کیوں یاد کیا خیر تو ہے کبیر ۔۔۔ '
کبیر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
ہاں تمہاری یاد آ رہی تھی ۔۔۔ ویسے میرا ایک دوست ہے تم سے ملنا چاہتا ہے اگر تمہارے پاس وقت ہے تو آ جاو ۔۔۔۔ بہت پیسے والا ہے تمہیں خوش کر دے گا ۔۔۔۔ '
دوسری طرف سمرانہ سوچ میں پڑ گئی پھر کچھ دیر بعد بولی ۔۔۔۔
آ تو جاوں گی لیکن اگر میرا شوہر جلدی گھر آ گیا تو پتا نہیں کیا ہوگا ۔۔۔۔ چلو تم اپنے فلیٹ پر چلو میں کوئی بہانہ بنا کر آ جاوں گی لیکن میری فیس پہلے بتا دینا اسے ۔۔۔۔ '
کبیر ہارون کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے فیس کی ٹینشن نہ لو ۔۔۔۔ چل ہم تیرا فلیٹ پر انتظار کر رہے ہیں تو بس ابھی جلدی پہنچ '
کبیر نے یہ کہہ کر کال کٹ کر دی اور ہارون کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔
لے بھائی تیرا کام ہو گیا وہ لڑکی آج رات تمہارے ساتھ گزارنے کے لیے راضی ہو گئی ۔۔۔۔ اب تو خوش ہے ناں ۔۔۔ '
ہارون مسکرایا ۔۔۔ لیکن اس کی زندگی میں جو طوفان آنے والا تھا اس کا اسے وہم و گمان بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی کے اختتام پر آپ حیران رہ جائیں گے ۔۔۔۔
https://youtu.be/hmAo76QQGpY
جاری ہے ۔۔۔۔
لیکن اگر آپ یہ کہانی ابھی مکمل کرنا چاہتے ہیں تو اس لنک پر تشریف لائیں ۔۔۔۔۔
کہانی کے بارے میں
اپنی رائے ضرور دیں
مجھے یقین ہے آپ کو
یہ کہانی ضرور پسند آئے گی ۔۔۔۔
ہمارے چینل پہ سیکڑوں
خوفناک ، مزاحیہ رومناٹک سبق آموز کہانیاں
موجود ہیں۔۔۔۔
وزٹ کریں اور سبسکرائب کریں
تا کہ آئندہ آپ کو کوئی کہانی ادھوری نہ ملے ۔۔۔۔
اس کہانی کے بارے میں اپنی رائے ضرور دیں ۔۔۔
شکریہ ۔۔۔۔
اللہ حافظ

Comments
Post a Comment